Hadith In Urdu

1) عذاب قبر
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، یحیی بن سعید، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس مانگنے کو آئی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ پھر ایک دن سواری پر صبح کے وقت سوار ہوئے اور آفتاب کو گہن لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت واپس ہوئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجروں کے درمیان سے گزرے، پھر نماز پڑھانے کھڑے ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل قیام فرمایا پھر طویل رکوع فرمایا پھر طویل قیام فرمایا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھا کر سجدہ میں گئے، پھر کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے، جو پہلے قیام تھا پھر طویل رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے جو پہلے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہو کر وہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہلانا چاہا پھر انہیں حکم دیا کہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگیں۔
 حوالہ:- صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1009

عذاب قبر  (2
عبدان، ابوعبدان، شعبہ، اشعث اپنے والد سے وہ مسروق سے اور مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور عذاب قبر کا تذکرہ کیا اور ان سے کہا کہ اللہ تمہیں عذاب قبر سے بچائے۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے متعلق پوچھا، آپ نے فرمایا ہاں قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز نہیں پڑھتے دیکھا مگر یہ کہ اس میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ غندر نے عذاب قبر کی زیادتی کے الفاظ بیان کئے۔

3) عذاب قبر
مسلم بن ابراہیم، ہشام، یحیی، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں تجھ سے عذاب قبر، آگ کے عذاب زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔
1315حوالہ:-صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 

4) تقدیر کا بیان
ابوالولید، ہشام بن عبدالمالک، شعبہ، سلیمان اعمش وہب عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صادق ومصدوق ہیں فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رہتا ہے پھر یہ چالیس دن میں بستہ خون کی شکل میں ہوجاتا ہے، پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرشتہ کو بھیجتا ہے اور چار چیزوں یعنی رزق، موت، بدبخت یا نیک بخت ہونے کے متعلق لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے واللہ تم میں ایک یا فرمایا آدمی دوزخیوں کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ یا گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس پر کتاب (نوشتہ تقدیر) غالب آتی ہے پس وہ جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک شخص جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر کتاب غالب آجاتی ہے پس وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے، آدم نے الاذراع یعنی صرف ایک گز کا لفظ نقل کیا ہے۔
حوالہ:-صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1534 


5) :قسموں اور نذروں کا بیان
محمد بن مقاتل ابوالحسن، عبداللہ ، ہشام بن عروہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے کفارہ یمین کی آیت نازل فرمائی اور انہوں نے کہا میں جس چیز کی بھی قسم کھاتا ہوں اور اس کے علاوہ میں خیر پاتا ہوں تو میں اسی چیز کو اختیار کرلیتا ہوں جو خیر ہوتی ہے اور میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔


حوالہ:-صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر1560

6) :تیمم کا بیان
عبداللہ بن یوسف، مالک، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روایت کرتی ہیں کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہم جب بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ (کر گر) گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ڈھونڈنے کے لئے قیام کردیا ، لوگ بھی آپ کے ہمراہ ٹھہر گئے، اس مقام میں کہیں پانی نہ تھا، لہذا لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں دیکھتے کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو ٹھہرا لیا، ان کے پاس پانی نہیں ہے، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے زانو پر رکھے سو رہے تھے، تو انہوں نے کہا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو ٹھہرا لیا، ان کے پاس پانی نہیں ہے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ پر غصہ ہوئے اور جو کچھ اللہ نے چاہا انہوں نے کہا اور اپنے ہاتھ سے میرے کولہا میں کونچہ دینے لگے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے زانو پر سر مبارک رکھے ہوئے آرام فرما رہے تھے، اس وجہ سے میں حرکت نہ کر سکی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو پانی نہ تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی، سب نے تیمم کیا، اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے آل ابوبکر یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے، کہ جس سے مومنین فیضیاب ہوئے ہیں، بلکہ اس سے قبل بھی فیض پہنچ چکا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ جس اونٹ پر میں تھی، اس کو ہٹایا تو اس کے نیچے ہار (بھی) مل گیا۔
331حوالہ:-صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 

No comments:

Post a Comment

Thanks For Your Feedback.