عذاب قبر
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، یحیی بن سعید، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس مانگنے کو آئی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ پھر ایک دن سواری پر صبح کے وقت سوار ہوئے اور آفتاب کو گہن لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت واپس ہوئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجروں کے درمیان سے گزرے، پھر نماز پڑھانے کھڑے ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل قیام فرمایا پھر طویل رکوع فرمایا پھر طویل قیام فرمایا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھا کر سجدہ میں گئے، پھر کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے، جو پہلے قیام تھا پھر طویل رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے جو پہلے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہو کر وہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہلانا چاہا پھر انہیں حکم دیا کہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگیں۔
No comments:
Post a Comment
Thanks For Your Feedback.